چمک جگنو کی برق ِ بے اماں معلوم ہوتی ہے
سیماب اکبرآبادی
غزل
چمک جگنو کی برق ِ بے اماں معلوم ہوتی ہے
قفس میں رہ کے قدر ِ آشیاں معلوم ہوتی ہے
کہانی میری روداد جہاں معلوم ہوتی ہے
جو سُنتا ہے اُسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے
چمن کے سانحے کو مدّتیں گزریں، مگر اب بھی
چمکتی ہے جو بجلی آشیاں معلوم ہوتی ہے
ترقی پر ہے روز افزوں خلش درد ِ محبت کی
جہاں محسوس ہوتی تھی وہاں معلوم ہوتی ہے
قفس کی تتلیوں میں جانے کیا ترکیب رکھی ہے
کہ ہر بجلی قریب ِ آشیاں معلوم ہوتی ہے










































